اپنے خطرات کو جانو
این سی سی آئی اے ڈیٹا کے مطابق خواتین کو چار اسکیم خاندان خاص طور پر نشانہ بناتے ہیں:
1. جعلی گھر سے کام کی نوکریاں — "صرف خواتین کے لیے ٹائپنگ/ریویو، ماہانہ 40,000" مگر 'قابلِ واپسی' 3,000–8,000 سیکیورٹی ڈپازٹ + کارڈ کی تصاویر۔ ڈپازٹ واپس نہیں آتی؛ تمہارے کارڈ پر جعلی سمز اور اکاؤنٹس بنتے ہیں۔
2. جعلی کورئیر او ٹی پی کال — پاکستان میں واٹس ایپ ہائی جیک کا نمبر 1 طریقہ، خاص طور پر گھر بیٹھی خواتین کو نشانہ۔ "پارسل اٹکا ہے — ویریفکیشن کوڈ بتائیں۔" یہ کوڈ آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہے۔ ہائی جیک شدہ اکاؤنٹ آپ کے نام پر پوری فہرست سے پیسے مانگتا ہے۔
3. رومانس/شادی اسکیم — "بیرون ملک افسر/ڈاکٹر" پروفائلز، ہفتوں اعتماد، پھر کسٹم فیس، طبی ایمرجنسی، ٹکٹ کے پیسے۔ اصلی رشتے خاندانوں کے ذریعے آتے ہیں، تصدیق قابل شناخت کے ساتھ — خفیہ واٹس ایپ رومانس ٹرانسفر نہیں مانگتے۔
4. نقلی شاپنگ پیجز — خوبصورت انسٹا گرام اسٹورز (کمنٹس بند، صرف بینک ٹرانسفر، چوری شدہ تصاویر)۔ کسی بھی ایڈوانس سے پہلے ریورس امیج سرچ۔
ایک لائن میں ڈھال: نوکری کے لیے ڈپازٹ نہیں، پارسل کے لیے کوڈ نہیں، رشتے کے لیے ٹرانسفر نہیں، انسٹا شاپ کے لیے ایڈوانس نہیں۔
